بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: سنتوں کا بیان باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 4662 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، الْأَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ:" إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي، وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ: وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔ حماد کی روایت میں ہے: شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلح 9 (27004)، المناقب 25 (3629)، فضائل الصحابة 22 (3746)، الفتن 20 (7109)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3773)، سنن النسائی/الجمعة 27 (1411)، (تحفة الأشراف: 11658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5 /37، 44، 49، 51) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہ پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس طرح سچ ثابت ہوئی کہ حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور ایک عظیم فتنہ کو ختم کر دیا یہ سال اتحاد ملت کا سال تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
رواه البخاري (3629)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4663 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ" مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ، إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ھشام بن حسان مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4664 سنن ابو داؤد
عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ، قَالَ:" دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا، قَالَ: فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ، فَدَخَلْنَا فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے، ہم نے ان سے پوچھا (کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ثعلبہ یا ضبیعہ مجہول ہیں لیکن سابقہ حدیث کی تقویت سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ثعلبة بن ضبيعة ھو ضبيعة بن حصين : مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4665 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، ضُبَيْعَةَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّعْلَبِيِّ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّعْلَبِيِّ بِمَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ثعلبہ بن ضبیعہ اور ضبیعہ بن حصین ایک ہی ہیں جو مجہول ہیں اور سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4664)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4666 سنن ابو داؤد
إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، لِعَلِيٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ:" قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں آپ (معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10258)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/142، 148) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
تقدم (4530) وللحديث شواھد
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 4667 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہو گا قتل کرے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الزکاة 47 (1064)، (تحفة الأشراف: 44370)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/32، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1065)
الحكم: صحيح