بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: سنتوں کا بیان باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 4627 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل الصحابة 4 (3655)، 7 (3698)، (تحفة الأشراف: 8028) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3698)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4628 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْبَسَةُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم حي أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7016) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (6025)
أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (1140 وسنده صحيح) نحو المعنٰي
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4629 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ، أَبُو يَعْلَى ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، لِأَبِي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ:" قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، قَالَ: ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ: ثُمَّ مَنْ؟ فَيَقُولَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبَةِ، قَالَ: مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (6371)، (تحفة الأشراف: 10266)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (106) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہ علی رضی اللہ عنہ کی غایت درجہ تواضع و انکساری ہے ورنہ باجماع امت آپ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3671)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4630 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ ، سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ:" مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ أَحَقَّ بِالْوِلَايَةِ مِنْهُمَا فَقَدْ خَطَّأَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَالْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارَ، وَمَا أُرَاهُ يَرْتَفِعُ لَهُ مَعَ هَذَا عَمَلٌ إِلَى السَّمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان کہتے تھے: جو یہ کہے کہ علی علیہ السلام ان دونوں (ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو خطاکار ٹھہرایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18766) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع
حدیث نمبر: 4631 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنِ فَارِسٍ ، قَبِيصَةُ ، عَبَّادٌ السَّمَّاكُ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ السَّمَّاكُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، يَقُولُ:" الْخُلَفَاءُ خَمْسَةٌ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ،وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان ثوری کہا کرتے تھے خلفاء پانچ ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18767) (ضعيف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عباد السَّماک مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عباد السماك :مجهول (تق: 3156)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
الحكم: ضعيف الإسناد مقطوع