زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، هُشَيْمٌ ، حَجَّاجٌ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا، زَادَ: ثُمّ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَاضِّ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ يَدِكَ فَيَعَضُّهَا ثُمَّ تَنْزِعُهَا مِنْ فِيهِ وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی یعلیٰ بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے ”پھر آپ نے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) دانت کاٹنے والے سے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو“ اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 11846) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4584)
الحكم: صحيح الإسناد