بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ) کی دیت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: دیتوں کا بیان باب: جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ) کی دیت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 4568 سنن ابو داؤد
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، (اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/القسامة 1 (1682)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1411)، سنن النسائی/القسامة 33 (4825)، سنن ابن ماجہ/الدیات 7 (2633)، (تحفة الأشراف: 11510)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات 25 (6905-6908)، الاعتصام 13 (7317)، مسند احمد (4 /224، 245، 246، 249)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1682)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4569 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمُ ، مُجَاهِدٍ ، الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11510) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1682)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4570 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ ، وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، عُرْوَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ:" أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ القسامة 2 (1689)، سنن ابن ماجہ/ الدیات 11 (2640)، (تحفة الأشراف: 11233، 11529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح دون زيادة هارون ق
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1683)
الحكم: صحيح دون زيادة هارون ق
حدیث نمبر: 4571 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، وُهَيْبٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، الْمُغِيرَةِ ، عُمَرَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ الدیات 25 (6907)، (تحفة الأشراف: 11511) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6905)
الحكم: صحيح بخاري (6905)
حدیث نمبر: 4572 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ:" أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيِه حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا: «مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 33 (4720)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2641)، (تحفة الأشراف: 3444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364، 4/ 79)، سنن الدارمی/الدیات 21 (2427) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2641 وسنده صحيح) ورواه النسائي (4743 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4573 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو،عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ وَأَنْ تُقْتَلَ، زَادَ: بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طاؤس کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3444) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
طاووس لم يسمع من عمر رضي اللّٰه عنه (قال أبو زرعة : طاوس عن عمر : مرسل / المراسيل ص 100)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 4574 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ ، عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ ، أَسْبَاطٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالْأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف (رائیگاں) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی۔ ابن عباس کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 4568، (تحفة الأشراف: 3444) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4832)
سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4575 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا، قَالَ: فَقَالَ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا، ان میں سے ہر ایک کے شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا: کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الدیات 25 (2648)، (تحفة الأشراف: 2347) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2648)
مجالد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4576 سنن ابو داؤد
وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، وَابْنُ السَّرْحِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ لَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو اسے قتل ہی کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہو گی اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے آپ نے یہ بات اس کی اس «سجع» تعبیر کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الطب 46 (5758)، الفرائض 11 (5759)، الدیات 25 (6909)، 26 (6910)، صحیح مسلم/القسامة 11(1681)، سنن النسائی/القسامة 33 (4822)، (تحفة الأشراف: 13320، 15308)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات 15 (1410)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2639)، موطا امام مالک/العقول 7 (5)، مسند احمد (2/236، 274، 438، 498، 535، 539)، دی/الدیات 21 (2427) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6910) صحيح مسلم (1681)
مشكوة المصابيح (3509)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4577 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مر گئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ الفرائض (6740)، الدیات 25 (6909)، صحیح مسلم/ الحدود 11 (1681)، سنن الترمذی/ الدیات 15 (1410)، الفرائض 19 (2111)، سنن النسائی/ القسامة 33 (4821)، (تحفة الأشراف: 13225)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول 7 (5) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6740) صحيح مسلم (1681)
الحكم: صحيح