بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زنا کی تہمت کی حد کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان باب: زنا کی تہمت کی حد کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4474 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ ، ابْنَ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُهُ: أَنَّ ابْنَ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ ذَاكَ وَتَلَا تَعْنِي الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیر النور 25 (3181)، سنن ابن ماجہ/الحدود (2567)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 6/35، 61) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (3579)
أخرجه الترمذي (3181 وسنده حسن) وابن ماجه (2567 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 250)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4475 سنن ابو داؤد
النُّفَيْلِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ مِمَّنْ تَكَلَّمَ بِالْفَاحِشَةِ: حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: وَيَقُولُونَ: الْمَرْأَةُ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17898) (حسن)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے)
قال الشيخ الألباني
حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (4474)
الحكم: حسن لغيره