أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، الْحَسَنِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ يَعْنِي فِي الْقِتَالِ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: ارْجِعْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا (تاکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں) تو مجھے (راستہ میں) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے“ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل (کا جہنم میں جانا) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 22، (31)، والدیات 2 (6875)، والفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن النسائی/المحاربة 25 (4127)، (تحفة الأشراف: 11655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/43، 47، 51) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (31) صحيح مسلم (2888)
الحكم: صحيح