عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ ، نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ۱؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَاتَمِ/حدیث: 4236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/334، 378) (حسن)»
وضاحت
۱؎: طوق گلے میں پہننے کا زیور، اسے گلوبند اور ہنسلی بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4401)
الحكم: حسن