بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4149 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا، فَلَمْ يَدْخُلْ، قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا، قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ، فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْمُرُنِي بِهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نہ ملیں، اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة وفضلھا 27 (2613)، (تحفة الأشراف: 8252)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2613)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4150 سنن ابو داؤد
وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8252) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2613)
الحكم: صحيح