مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ" يُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ: يُسْتَمْتَعُ بِهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ الْأَوْزَاعِيُّ، وَيُونُسُ، وَعُقَيْلٌ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ الدِّبَاغَ، وَذَكَرَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَحَفْصُ بْنُ الْوَلِيدِ ذَكَرُوا الدِّبَاغَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معمر کہتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں ”دباغت“ کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
مسند أحمد (1/ 365)
عبدالرزاق لم يصرح بالسماع
والحديث المرفوع صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع