بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل باب: نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 4020 سنن ابو داؤد
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ إِمَّا قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ"، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ أَحَدُهُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا، قِيلَ لَهُ: تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ (کہہ کر) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا: تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/اللباس 29 (1767)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (310)، (تحفة الأشراف: 4326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30، 50) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4342)
أخرجه الترمذي (1767 وسنده حسن)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4021 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْجُرَيْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی جریری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (4020)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4022 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، الْجُرَيْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4020)، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (4020)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4023 سنن ابو داؤد
نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبِي مَرْحُومٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ نیز فرمایا: اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 56 (3458)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3285)، (تحفة الأشراف: 11297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439)، سنن الدارمی/الاستئذان 55 (2732) (حسن) دون زیادة: ’’وما تأخر‘‘ في الموضعین» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن دون زيادة وما تأخر
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (4343)
أخرجه الترمذي (3458 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3285 وسنده حسن) أبو مرحوم عبد الرحيم وثقه الجمھور وحسنه الحافظ في الفتوحات الربانية
الحكم: حسن دون زيادة وما تأخر