بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل باب: مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3955 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، هُشَيْمٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِيعَ بِسَبْعِ مِائَةِ أَوْ بِتِسْعِ مِائَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 59 (2141)، الاستقراض 16 (2403)، الخصومات 3 (2415)، العتق 9 (2534)، کفارات الأیمان 7 (6716)، الإکراہ 4 (6947)، الأحکام 32 (7186)، سنن النسائی/الزکاة 60 (2547)، سنن ابن ماجہ/العتق 1 (2512)، مسند احمد (3/305، 368، 369، 370، 371، 390)، سنن الدارمی/البیوع 37 (2615) (تحفة الأشراف: 2416، 2443)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، الأیمان 13 (997)، سنن الترمذی/البیوع 11(1219) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مدبر: اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2230) صحيح مسلم (997 بعد ح1668)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3956 سنن ابو داؤد
جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا، زَادَ وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے (یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2425)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (5001) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3957 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا وَهَاهُنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِتْق/حدیث: 3957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ الزکاة 13 (997)، سنن النسائی/ الزکاة 60 (547)، (تحفة الأشراف: 2667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 369) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اپنے دوستوں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (997)
الحكم: صحيح