بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: علاج کے احکام و مسائل باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3885 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وابْنُ السَّرْحِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْروِ بْنِ يَحْيَى ، يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وابْنُ السَّرْحِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ عَمْروِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَحْمَدُ: وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: اكْشِفِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بَطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ نَفَثَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَصَبَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَهُوَ الصَّوَابُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب الناس ‏"‏ ‏.‏ عن ثابت بن قيس» لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/ الیوم واللیلة، (1017، 1040) (تحفة الأشراف: 2066) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن یوسف لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
يوسف بن محمد لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (7879)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 3886 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مُعَاوِيَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟، فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 22 (2200)، (تحفة الأشراف: 10903) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2200)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3887 سنن ابو داؤد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ، فَقَالَ لِي:" أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «نملہ» ۱؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/372) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «نملہ» ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (4561)
أخرجه أحمد (6/372) والنسائي في الكبريٰ (7543) وللحديث طرق عند النسائي في الكبريٰ (7542) والحاكم (4/414)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3888 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، جَدَّتِي ، سَهْلَ بْنَ حُنَيفٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيفٍ، يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ فِيهِ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا سَيِّدِي، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ؟، فَقَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحُمَةُ مِنَ الْحَيَّاتِ وَمَا يَلْسَعُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے (ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/486) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (عثمان کی دادی رباب لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
عثمان بن حكيم جدته اسمھا الرباب: حديثھا حسن علي الراجح
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 3889 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شَرِيكٌ ، الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكٌ ، الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ الْعَبَّاسُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ دَمٍ يَرْقَأُ"، لَمْ يَذْكُرِ الْعَبَّاسُ الْعَيْنَ وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 939) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، صحیح روایت شعبی عن عمران موقوفا بلفظ  «لارقیة إلا من عین أوحمة»  (دیکھئے نمبر 3884)، اور مسلم (السلام 21) کی روایت جو انس رضی اللہ عنہ سے ہے اس کے الفاظ ہیں «رخص النبي صلى الله عليه و آله وسلم في الرقیة من الحمة و العین والنملة» )
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
شريك عنعن
وللحديث شاهد ضعيف عند ابن أبي شيبة (393/7)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
الحكم: ضعيف