بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: علاج کے احکام و مسائل باب: رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3863 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ عَلَى وِرْكِهِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2978)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3485)، مسند احمد (3053، 357، 382) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2851) ابن ماجه (3082)
أبو الزبير عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1836) يغني عنه
وانظر الحديث السابق (1837)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3864 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيٍّ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 26 (2207)، سنن ابن ماجہ/الطب 24 (3493)، (تحفة الأشراف: 2296)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/303، 304، 315، 371) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی طبیب کو اختیار ہے کہ اپنے تجربہ سے جہاں بہتر سمجھے وہاں کی رگ کاٹے، تو اس طبیب نے ان کی بابت یہی بہتر سمجھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2207)
الحكم: صحيح