بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دوا علاج کرانے کے حکم کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: علاج کے احکام و مسائل باب: دوا علاج کرانے کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3855 سنن ابو داؤد
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، شُعْبَةُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَا هُنَا وَهَهُنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟، فَقَالَ: تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏* تخريج:سنن النسائی/الکبری الطب، 43 (7553)، سنن الترمذی/الطب 2 (2038)، سنن ابن ماجہ/الطب 1 (3436)، (تحفة الأشراف: 127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/278) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4532، 5078، 5079)
رواه ابن الترمذي (2038 وسنده صحيح) وابن ماجه (3436 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح