بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کھجور کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: کھجور کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3830 سنن ابو داؤد
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، يَزِيدَ الْأَعْوَرِ ، يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً، وَقَالَ: هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: یہ اس کا سالن ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظرحدیث رقم: (3259)، (تحفة الأشراف: 11854) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یزیدا لاعور مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (3260)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3831 سنن ابو داؤد
الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 38 (3327)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کر لے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2046)
الحكم: صحيح