يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، خَالِدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، يَقُولُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَانَ بالصِّفَاحِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَكَانٌ بِمَكَّةَ،" وَإِنَّ رَجُلًا جَاءَ بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ، فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا، وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما صفاح میں تھے (محمد (محمد بن خالد) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اسے حیض آتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8621) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی خالد لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن خالد بن الحويرث مستور (تقريب التهذيب: 5842) وأبوه مجهول (التحرير : 1621) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
الحكم: ضعيف الإسناد