بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3788 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ لَنَا فِي لُحُومِ الْخَيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی ہمیں اجازت دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/المغازي 38 (4219)، الصید 27 (5520)، 28 (5524)، صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن النسائی/الصید 29 (4332)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 12 (3191)، (تحفة الأشراف: 2810، 2639)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 5 (1793)، مسند احمد (3/322، 356، 361، 362، 385)، دی/ الصید 6 (2055) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4219) صحيح مسلم (1941)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3789 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَالْبِغَالَ، وَالْحَمِيرَ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خچر اور گدھوں سے منع فرما دیا، اور گھوڑے سے ہمیں نہیں روکا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/356، 362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
رواه مسلم (1941)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3790 سنن ابو داؤد
سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ ، بَقِيَّةُ ، ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ"، زَادَ حَيْوَةُ: وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا بَأْسَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَنْسُوخٌ، قَدْ أَكَلَ لُحُومَ الْخَيْلِ جَمَاعَةٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وسُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، وَعَلْقَمَةُ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْبَحُهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الصید 30 (4336)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 14 (3198)، (تحفة الأشراف: 3505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89،90) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، اور یہ جابر کی صحیح روایت کے خلاف ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4336،4337) ابن ماجه (3198)
صالح بن يحيي بن المقدام : لين وأبوه مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
الحكم: ضعيف