الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو (ولیمہ کی) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/ النکاح 73 (5177)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1432)، سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1913)، (2110)، (تحفة الأشراف: 13955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/240)، سنن الدارمی/الأطعمة 28(2110) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ جو ولیمہ ایسا ہو جس میں صرف مالدار اور باحیثیت لوگ ہی بلائے جائیں، اور محتاج و فقیر نہ آنے پائیں وہ برا ہے، نہ یہ کہ خود ولیمہ برا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ق موقوفا م مرفوعا
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5177) صحيح مسلم (1432)
الحكم: صحيح ق موقوفا م مرفوعا