مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي طُوَالَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فِي حَرِيمِ نَخْلَةٍ فِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا، فَأَمَرَ بِهَا فَذُرِعَتْ، فَوُجِدَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَفِي حَدِيثِ الْآخَرِ، فَوُجِدَتْ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، فَقَضَى بِذَلِكَ"، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ مِنْ جَرِيدِهَا فَذُرِعَتْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4408) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح