بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صلح کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل باب: صلح کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3594 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ ، مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ شَكَّ الشَّيْخُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ"، زَادَ أَحْمَدُ إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14806)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/366) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: لیکن ایسی شرط سے بچیں جو شریعت میں ناجائز ہے، اور جس سے آئندہ خرابی واقع ہو گی۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5246، 2923)
رواه النسائي (3181 وسنده صحيح)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 3595 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ لَه بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ فَاقْضِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ابن حدرد) سے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 83 (471)، والخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، والصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/المساقاة 4 (1558)، سنن النسائی/القضاة 21 (5410)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 454، 460، 6/386، 390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (471) صحيح مسلم (1558)
الحكم: صحيح