بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3538 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ ، وَهَمَّامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ" قَالَ هَمَّامٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے (یہ بھی) کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں (تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا)۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة 14 (2588)، صحیح مسلم/الھبة 2 (1622)، سنن النسائی/الھبة 2 (3672)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 5 (2385)، (تحفة الأشراف: 5662)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 62، (1299)، مسند احمد (1/250، 280، 289، 291، 339، 342، 345، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2621) صحيح مسلم (1622)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3539 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ۱؎، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 62 (1299)، الولاء والبراء 7 (2132)، سنن النسائی/الھبة 2 (3720)، سنن ابن ماجہ/الھبات 1 (2377)، (تحفة الأشراف: 5743، 7097)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/27، 78) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: چونکہ باپ اور بیٹے کا مال ایک ہی ہے اور اس میں دونوں حقدار ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دے اس لئے واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3021)
رواه النسائي (3720 وسنده صحيح) وابن ماجه (2377 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3540 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ، فَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوَقَّفْ، فَلْيُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ، ثُمَّ لِيُدْفَعْ إِلَيْهِ مَا وَهَبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، (اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الھبات2 (2378)، سنن النسائی/الہبة 2 (3719)، (تحفة الأشراف: 8722، 8660)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/75) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح