مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَايْمُ اللَّهِ، لَا أَقْبَلُ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا مِنْ أَحَدٍ هَدِيَّةً، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُهَاجِرًا قُرَشِيًّا، أَوْ أَنْصَارِيًّا، أَوْ دَوْسِيًّا، أَوْ ثَقَفِيًّا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/المناقب 74 (3946)، (تحفة الأشراف: 14320) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس کی وجہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی سنن ترمذی کی کتاب المناقب کی آخری حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک اونٹ تحفہ میں دیا تو آپ نے اس کے بدلے میں اسے چھ اونٹ دئیے، پھر بھی وہ ناراض رہا، اس کا منہ پھولا رہا، جب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو اس وقت آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس حدیث کو بیان فرمایا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (3022)
وللحديث طرق عند ابن حبان (1145 وسنده حسن) وله شاھد عند الترمذي (3945 وسنده حسن)
الحكم: صحيح