بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3528 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمَّتِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي حِجْرِي يَتِيمٌ أَفَآكُلُ مِنْ مَالِهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَطْيَبِ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمارہ بن عمیر کی پھوپھی سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: میری گود میں ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے مال میں سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: آدمی کی پاکیزہ خوراک اس کی اپنی کمائی کی ہے، اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 22 (1358)، سنن النسائی/البیوع 1 (4454)، سنن ابن ماجہ/التجارات 1 (2137)، 64 (2290)، (تحفة الأشراف: 15961، 17992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 42، 127، 162، 193، 220)، سنن الدارمی/البیوع 6 (2579) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (2770)
أخرجه النسائي (4454) وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (3530)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3529 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ زَادَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو (تو بقدر ضرورت لے لو) لیکن یہ زیادتی منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17992) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (3530)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3530 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي، قَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8670، 8675)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات64 (2292)، مسند احمد (2/179) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: بعض نسخوں میں «يحتاج» ہے، یعنی: ان کے اخراجات میرے مال کو ختم کر دیں گے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3354)
الحكم: حسن صحيح