أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنَاجَشُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نجش نہ کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، والبیوع 4 (1520)، سنن الترمذی/البیوع 65 (1304)، سنن النسائی/البیوع 12 (4492)، سنن ابن ماجہ/التجارات (2174)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (4/338، 354، 394، 402، 410) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2140) صحيح مسلم (1413)
الحكم: صحيح