بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3425 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے۔   [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الإجارة20 (2283)، الطلاق 51 (5348)، (تحفة الأشراف: 13427)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/287، 347، 382، 437، 454، 480)، سنن الدارمی/البیوع 77 (2662) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2283)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3426 سنن ابو داؤد
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عِكْرِمَةُ ، طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَذَكَرَ أَشْيَاءَ وَنَهَى عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا، وَقَالَ: هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ، وَالْغَزْلِ، وَالنَّفْشِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طارق بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لونڈی کی کمائی (زنا کی کمائی) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا، چرخہ کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3593)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/341) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
أخرجه أحمد (4/341) وصححه الحاكم (2/42) فتعقبه الذهبي والصواب خلافه وله شواھد
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 3427 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ ، أَبِيهِ ، رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3587)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/141) (حسن) بما قبلہ» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہو جائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3426)
الحكم: حسن لغيره