بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مزابنہ کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: مزابنہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3361 سنن ابو داؤد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا (جو بیلوں پر ہو) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، (تحفة الأشراف: 8273، 8131)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 82 (2185)، سنن النسائی/البیوع 30 (4537)، 37 (4553)، سنن ابن ماجہ/التجارات 54 (2265)، موطا امام مالک/البیوع 8 (10)، مسند احمد (2/7، 168) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: درخت پر لگے ہوے پھل کا اندازہ کر کے اسے اسی قدر توڑے ہوے پھل کے بدلے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2171، 2205) صحيح مسلم (1542)
الحكم: صحيح