الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَبَا عَيَّاشٍ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعیاش نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3854) (شاذ)» (اصل حدیث (3358) کے مطابق ہے لیکن «نسیئة» کا لفظ ثابت نہیں ہے، یہ یحییٰ بن ابی کثیر کا اضافہ ہے، جس پر کسی ثقہ نے موافقت نہیں کی ہے) ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل (5؍200) «قال أبو داود رواه عمران بن أبي أنس عن مولى لبني مخزوم عن سعد عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم نحوه (صحیح) » (اس میں نسیئتہ کا ذکر نہیں ہے)
وضاحت
۱؎: پہلی حدیث کی رو سے اگر نقد ہو تو بھی منع ہے، لیکن امام ابو حنیفہ نے اسے ادھار پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ليس فيه نسيئة
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح ليس فيه نسيئة