بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تلوار کے قبضہ کو جس پر چاندی مڑھی ہوئی ہو درہم (چاندی کے سکے) سے بیچنا کیسا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: تلوار کے قبضہ کو جس پر چاندی مڑھی ہوئی ہو درہم (چاندی کے سکے) سے بیچنا کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3351 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، ابْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، حَنَشٍ ، فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ مَنِيعٍ: فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ، أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا"، وقَالَ ابْنُ عِيسَى: أَرَدْتُ التِّجَارَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ فِي كِتَابِهِ الْحِجَارَةُ، فَغَيَّرَهُ، فَقَالَ التِّجَارَةُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ (جڑے ہوئے) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں (یہ خریداری درست نہیں) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے (نگ) لینے کا تھا (یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا ۱؎۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 17 (1591)، سنن الترمذی/البیوع 32 (1255)، سنن النسائی/ البیوع 46 (4577)، (تحفة الأشراف: 11027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19، 21) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس بیع سے آپ نے اس لئے منع فرمایا کیونکہ سونے کے عوض جو دینار دئے گئے اس میں سونے کے بالمقابل دینار میں کمی بیشی کا خدشہ تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1591)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3352 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، فَفَصَّلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا (۱۲) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11027) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1591)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3353 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ ، فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ، قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم (3351)، (تحفة الأشراف: 11027) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1591)
الحكم: صحيح