بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3346 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے (آ کر) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/البیوع 43 (1600)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن النسائی/البیوع 62 (4621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2285)، (تحفة الأشراف: 12025)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1600)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3347 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يَحْيَى ، مِسْعَرٍ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 59 (443)، والوکالة 8 (2309)، والاستقراض 7 (2394)، والھبة 32 (3603)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (715)، سنن النسائی/البیوع 51 (4594)، (تحفة الأشراف: 2578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299، 302، 319، 363) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر قرضدار اپنی خوشی سے بغیر کسی شرط کے زیادہ دے تو اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (443) صحيح مسلم (715 بعد ح1599)
مشكوة المصابيح (2925)
الحكم: صحيح