بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3322 سنن ابو داؤد
جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ، فَلْيَفِ بِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد:ورَوَى هَذَا الْحَدِيثَ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْهِنْدِ، أَوْقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غیر نامزد نذر مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو کسی گناہ کی نذر مانے تو اس کا (بھی) کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے پوری کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے وہ پوری کر سکتا ہو تو وہ اسے پوری کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع وغیرہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن سعید (بن ابوہند) سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2128)، (تحفة الأشراف: 6341) (ضعیف مرفوعاً)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی طلحہ انصاری حافظہ کے کمزور راوی ہیں ان کے بالمقابل وکیع ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے روایت کیا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف مرفوعا
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3436)
طلحة بن يحيي حسن الحديث وتابعه ابن جريج عند البيھقي (10/72) وللحديث شواھد
الحكم: ضعيف مرفوعا