بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3305 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ، أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: صَلِّ هَاهُنَا، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: صَلِّ هَاهُنَا، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: شَأْنُكَ إِذًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رُوِيَ نَحْوُهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں پڑھ لو (یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے)، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: یہیں پڑھ لو پھر اس نے (سہ بارہ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری مرضی (چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/363)، سنن الدارمی/النذور 4 (2384) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3440)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3306 سنن ابو داؤد
مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ الْمَعْنَى ، رَوْحٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرًا ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، رِجَالٍ
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَمْرًا، وَقَالَ عَبَّاسٌ ابْنُ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا، لَأَجْزَأَ عَنْكَ صَلَاةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ وَقَالَ: أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعْن رِجَالٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں (یعنی مسجد الحرام میں) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا (وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/373) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة یوسف، حفص، عمر وبن عبدالرحمن سب کے سب لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
يوسف بن الحكم مستور،لم يوثقه غير ابن حبان و في التحرير (7859) : ’’ مجهول الحال ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
الحكم: ضعيف الإسناد