بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3279 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، أُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ ذُؤَيْبِ بْنِ قَيْسٍ الْمُزَنِيَّةِ ، ابْنِ أَخِي صَفِيَّةَ ، صَفِيَّةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ ذُؤَيْبِ بْنِ قَيْسٍ الْمُزَنِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَخٍ لِصَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ حَرْمَلَةَ: فَوَهَبَتْ لَنَا أُمُّ حَبِيبٍ صَاعًا، حَدَّثَتْنَا عَنِ ابْنِ أَخِي صَفِيَّةَ، عَنْ صَفِيَّةَ: أَنَّهُ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَرَّبْتُهُ، أَوْ قَالَ: فَحَزَرْتُهُ فَوَجَدْتُهُ مُدَّيْنِ وَنِصْفًا بِمُدِّ هِشَامٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صاع ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15903) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے تو ایک صاع پانچ رطل کا ہوا یہ صاع حجازی کہلاتا ہے اور صاع عراقی (۸) رطل کا ہوتا ہے یعنی (۴) مد کا۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أم حبيب مستورة (أي مجهولة الحال) وابن أخي صفية : ’’ لا يعرف‘‘ (تق : 8713،8497)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 3280 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا مَكُّوكٌ، يُقَالُ لَهُ: مَكُّوكُ خَالِدٍ، وَكَانَ كَيْلَجَتَيْنِ بِكَيْلَجَةِ هَارُونَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: صَاعُ خَالِدٍ صَاعُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک مکوک ۱؎ تھا اسے مکوک خالد کہا جاتا تھا، وہ ہارون کے کیلجہ (ایک پیمانہ ہے) سے دو کیلجہ کے برابر تھا۔ محمد کہتے ہیں: خالد کا صاع ہشام یعنی ابن عبدالملک کا صاع ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19335) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ایک پیمانہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
خالد ھو ابن عبد الله القسري
الحكم: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 3281 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ ، مُسَدَّدٌ ، أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ:" لَمَّا وُلِّيَ خَالِدٌ الْقَسْرِيُّ أَضْعَفَ الصَّاعَ، فَصَارَ الصَّاعُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ قَتَلَهُ الزِّنْجُ صَبْرًا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ أَبُو دَاوُدَ يَدَهُ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، قَالَ: أَدْخَلَنِي الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: فَلَمْ يَضُرَّكَ الْوَقْفُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صاع کو دو چند کر دیا تو ایک صاع (۱۶) رطل کا ہو گیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کر دیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18606) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: خالد قسری کا یہ عمل دلیل نہیں ہے، عراقی صاع (۸) رطل کا ہوتا ہے، حجازی نبوی صاع (۵) رطل کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح مقطوع