بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قبر کھودنے والے کو کوئی ہڈی مل جائے تو کیا وہ اس جگہ کو کریدے (یا چھوڑ دے)۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر کھودنے والے کو کوئی ہڈی مل جائے تو کیا وہ اس جگہ کو کریدے (یا چھوڑ دے)۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3207 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ، كَكَسْرِهِ حَيًّا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مردے کی ہڈی توڑنا زندے کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 63 (1616)، (تحفة الأشراف: 17893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/58، 100، 105، 168، 200، 264) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: گویا قبر کھودتے وقت اگر پہلے سے کسی میت کی ہڈی موجود ہے تو اسے چھیڑے بغیر دوسری جگہ قبر تیار کی جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (1714)
أخرجه ابن ماجه (1616 وسنده حسن) سعد بن سعيد حسن الحديث
الحكم: صحيح