بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قبر پر جنازہ پڑھنا۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر پر جنازہ پڑھنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3203 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ، أَوْ رَجُلًا، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: مَاتَ، فَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ؟، قَالَ: دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ، فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مر گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 74 (458)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (956)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1527)، (تحفة الأشراف: 14650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/353، 388، 406) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (458) صحيح مسلم (956)
الحكم: صحيح