يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ ، عَمَّارٌ مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، َوَأَبُو قَتَادَةَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ٍأَنَّهُ شَهِدَ جَنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ، وَابْنِهَا، فَجُعِلَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، َوَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالُوا: هَذِهِ السُّنَّةُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام کے قریب رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا: سنت یہی ہے (یعنی پہلے لڑکے کو رکھنا پھر عورت کو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الجنائز 74 (1979)، (تحفة الأشراف: 4261) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
أخرجه النسائي (1979 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح