بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3172 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ، أَوْ تُوضَعَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم جنازے کو دیکھو تو (اس کے احترام میں) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا (زمین پر) رکھ دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 46 (1307)، 47 (1308)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (958)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1042)، سنن النسائی/الجنائز 45 (1916)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1542)، (تحفة الأشراف: 5041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/445، 446، 447) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1307) صحيح مسلم (958)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3173 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَبِعْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ فِيهِ: حَتَّى تُوضَعَ بِالْأَرْضِ، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ: حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَسُفْيَانُ: أَحْفَظُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4124)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 48 (1310)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (959)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1043)، سنن النسائی/الجنائز 44 (1915)، 45 (1918)، 80 (2000)، مسند احمد (3/25، 41، 51، 85، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3174 سنن ابو داؤد
مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، الْوَلِيدُ ، أَبُو عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرٌ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ، إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً، فَقُومُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موت ڈرنے کی چیز ہے، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 49 (1311)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (960)، سنن النسائی/الجنائز 46 (1923)، (تحفة الأشراف: 2386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/319، 354) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1311) صحيح مسلم (960)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3175 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ فِي الْجَنَائِزِ، ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے جنازوں میں (دیکھ کر) کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر اس کے بعد بیٹھے رہنے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن النسائی/الجنائز 81 (2001)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/ الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الجنائز 11 (33)، مسند احمد (1/82، 83، 131، 138) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (962)
مشكوة المصابيح (1650)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3176 سنن ابو داؤد
هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي، اللَّحْدِ فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: هَكَذَا نَفْعَلُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: اجْلِسُوا خَالِفُوهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (اس کے بعد سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: (مسلمانو!) تم (بھی) بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 35 (1020)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1545)، (تحفة الأشراف: 5076) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1020) ابن ماجه (1545)
قال الترمذي :’’ غريب،وبشربن رافع ليس بالقوي في الحديث ‘‘وعبد اللّٰه بن سليمان بن جنادة ضعيف (تقريب التهذيب:3369)
وأبوه منكر الحديث (تق : 2542)
وللحديث شواھد ضعيفةوحديث مسلم (962) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
الحكم: حسن