مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ،عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ، قَالَ:" أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، قَالَ: أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ، وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ، قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ: ذَاكُمُ الْعَرْضُ، يَا عَائِشَةُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!“، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ”جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا“ (سورۃ النساء: ۱۲۳)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا“ (سورۃ الانشقاق: ۸)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 36 (103)، وتفسیر القرآن 1 (4939)، صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا 18 (2876)، سنن الترمذی/صفة القیامة 5 (2426)، وتفسیر القرآن 75 (3337)، مسند احمد (4/47) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد لكن شطر من حوسب عذب الخ صحيح ق
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
أبو عامر الخزاز صالح بن رستم: حسن الحديث، وأصله متفق عليه بالإختصار البخاري (4939) ومسلم (2876)
الحكم: ضعيف الإسناد لكن شطر من حوسب عذب الخ صحيح ق