بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مدفون مال کے لیے پرانی قبروں کی کھدائی کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: مدفون مال کے لیے پرانی قبروں کی کھدائی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3088 سنن ابو داؤد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ مَعَهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: یہ ابورغال ۱؎ کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا ۲؎ لیکن جب (ایک مدت کے بعد) وہ (حدود حرم سے) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی (یعنی زلزلہ کا شکار ہوا) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی، اگر تم قبر کو کھودو تو اس کو پا لو گے، یہ سن کر لوگ دوڑ کر قبر پر گئے اور کھود کر ٹہنی (سونے کی سلاخ) نکال لی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8607) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی بجیر مجہول ہیں)
وضاحت
۱؎: قوم ثمود کے ایک شخص کا نام تھا جو ثقیف کا جداعلیٰ تھا۔
۲؎: کیونکہ حرم میں عذاب نازل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
بجير مجهول (تق : 636)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
الحكم: ضعيف