بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خراج کی زمین میں رہنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: خراج کی زمین میں رہنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3081 سنن ابو داؤد
هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ ، زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا (یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا (یعنی اس نے اچھا نہ کیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11372) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن عیسیٰ سیٔ الحفظ ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم أبو عبد اللّٰه الخزاعي لم أجد من وثقه وھو مقبول (أي مجهول الحال) انظر التقريب (6658) وفي سماعه من معاذ رضي اللّٰه عنه نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
الحكم: ضعيف الإسناد
حدیث نمبر: 3082 سنن ابو داؤد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، بَقِيَّةُ ، عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ ، شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ ، يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الإِسْلَامَ ظَهْرَهُ"، قَالَ: فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِي: أَشُبَيْبٌ حَدَّثَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلَيَّ بِالْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَتَبَهُ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدِهِ مِنَ الأَرْضِينَ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے (گویا) اپنی ہجرت فسخ کر دی اور جس نے کسی کافر کی ذلت (یعنی جزیہ کو) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا (یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کر لیا) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا۔ (اس حدیث کے راوی سنان) کہتے ہیں: خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا: کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں۔ سنان کہتے ہیں: (میں نے ان سے کہا) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر (مجھ کو) دی، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس (کاغذ) مانگا میں نے ان کو دے دیا، جب انہوں نے اسے پڑھا، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں، شعبہ کے شاگرد نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10969) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سنان بن قیس لیّن الحدیث ہیں، نیز اس میں بقیہ بھی ہیں جو متکلم فیہ ہیں)
وضاحت
۱؎: یہ حکم غالباً ابتداء اسلام میں تھا یا پھر یہ تہدید ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ صر ف کاشتکار بن کر رہ جائے اور جہاد کو بھول جائے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عمارة مجهول و سنان بن قيس مقبول (تقريب التهذيب: 4850،2643) أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
الحكم: ضعيف الإسناد