إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَرْأَةُ تُحْرِزُ ثَلَاثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے: اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی، راہ میں پائے ہوئے بچے کی، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو (یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو) تو عورت اس کی وارث ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الفرائض 23 (2115)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 12 (2742)، (تحفة الأشراف: 11744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490، 4/106) (ضعیف)» (اس کے راوی عمر بن رؤبة ضعیف ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2115) ابن ماجه (2742)
عمر بن رؤبة ضعفه البخاري والجمهور فھو ضعيف يعتبر به
انظر التحرير (4895)
وقال ابن عدي : ’’ وإنما أنكروا عليه أحاديثه عن عبدالواحد النصري ‘‘ (الكامل 1707/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
الحكم: ضعيف