بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وراثت کے احکام و مسائل باب: جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2887 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ، قَالَ: أَحْسِنْ، قُلْتُ الشَّطْرَ، قَالَ: أَحْسِنْ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ: يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2977)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6325)، مسند احمد (3/372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
وللحديث شواھد كثيرة منھا الحديث السابق (2886)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2888 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/المغازي 66 (4364)، والتفسیر 27 (4605)، 3 (4656)، والفرائض 14 (6744)، صحیح مسلم/الفرائض 3 (1618)، (تحفة الأشراف: 1870)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (4346) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جو سورہ نساء کے اخیر میں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4605) صحيح مسلم (1618)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2889 سنن ابو داؤد
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ، فَمَا الْكَلَالَةُ؟ قَالَ:" تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ"، فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق: هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا، قَالَ: كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الفرائض 2 عن عمر (1617)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (3042)، (تحفة الأشراف: 1906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293، 295، 301) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: سورہ نساء کا آخری حصہ گرمی کے زمانہ میں نازل ہوا ہے اس لئے اسے آیت «صيف» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وللحديث شواھد عند مسلم (1617) وانظر الحديث السابق (2888)
الحكم: صحيح