بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: شکار کے احکام و مسائل باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2844 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2844]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 10 (1575)، سنن الترمذی/الصید 4 (1490)، سنن النسائی/الصید 14 (4294)، (تحفة الأشراف: 15271، 15390)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 3 (2323)، وبدء الخلق 17 (3324)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3204)، مسند احمد (2/267، 345) (صحیح) ولیس عند (خ) ’’أو صید‘‘ إلا معلقًا» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین و جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔ نیز حدیث میں مذکورہ غرض کے علاوہ کتا پالنے میں ثواب کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کتا نجس ہے، اس کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتے نہیں آتے، یا آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ق وليس عند خ أو صيد إلا معلقا
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1575)
الحكم: صحيح ق وليس عند خ أو صيد إلا معلقا
حدیث نمبر: 2845 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں ۱؎ تو میں ان کے قتل کا ضرور حکم دیتا، تو اب تم ان میں سے خالص کالے کتوں کو قتل کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصید 3 (1486)، سنن النسائی/الصید 10 (4385)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3205)، (تحفة الأشراف: 9649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/85، 86، 5/54، 56، 57)، دی/ الصید 2 (2049) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی ایک مخلوق ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1486،1489) نسائي (4285) ابن ماجه (3205)
الحسن البصري عنعن
و للحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (الكبير 11/ 349) و أبي يعلي (2442) و ابن حبان (الموارد : 1083،الإحسان : 5629) وغيرهم
والحديث الآتي (الأصل : 2846) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2846 سنن ابو داؤد
يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 10 (1572)، (تحفة الأشراف: 2813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/333) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1572)
مشكوة المصابيح (4102)
الحكم: صحيح