بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2776 سنن ابو داؤد
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/العمرة (الحج) 16(1801)، صحیح مسلم/الإمارة 56 (715)، (تحفة الأشراف: 2577)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 19 (2713)، مسند احمد (3/299، 302) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5243) صحيح مسلم (715 بعد ح1928)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2777 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: سفر سے گھر واپس آنے کا اچھا وقت یہ ہے کہ آدمی شام میں آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 121 (5244)، صحیح مسلم/الجہاد 56 (715)، (تحفة الأشراف: 2343) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5244) صحيح مسلم (715 بعد ح1928)
مشكوة المصابيح (3921)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2778 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، هُشَيْمٌ ، سَيَّارٌ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ:" أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الزُّهْرِيُّ: الطُّرُوقُ بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ لَا بَأْسَ بِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کر لے، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری نے کہا: ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 122 (5247)، صحیح مسلم/الإمارة 56 (715)، (تحفة الأشراف: 19418، 2324)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/298، 355، 396) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5247) صحيح مسلم (715 بعد ح1928)
الحكم: صحيح