بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2753 سنن ابو داؤد
أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ ، مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ، فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ لَأَعْطَيْتُكَ"، ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11484)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/470) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: دشمن سے جو مال جہاد میں حاصل ہوتا ہے اسے غنیمت کہتے ہیں، غنیمت میں چار حصے غازیوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں، اور ایک حصہ امام رکھ لیتا ہے، امام کو اختیار ہے کہ لشکر میں سے کسی خاص جماعت یا کسی خاص شخص کو کسی خاص کام کے سلسلے میں بطور انعام کچھ زیادہ دے دے، اسے نفل کہتے ہیں، یہ لشکر جو نجد کی طرف گیا تھا اس میں چار ہزار آدمی تھے، ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، لیکن پندرہ آدمیوں کی ایک ٹکڑی کو جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، ایک ایک اونٹ بطور نفل زیادہ دیا۔
۲؎: یہ غنیمت کا مال نہیں ہے جسے کافروں سے لڑ کر چھینا گیا ہو، بلکہ یہ فیٔ کا مال ہے جس میں خمس نہیں ہوتا لہٰذا اس میں نفل بھی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4009)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2754 سنن ابو داؤد
هَنَّادٌ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، أَبِي عَوَانَةَ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی عاصم بن کلیب سے اسی طریق سے اور اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11484) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح