مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ ، ابْنُ إِسْحَاق ، أَبِي جَعْفَرٍ ، وَالزُّهْرِي ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَالزُّهْرِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَشْهَدْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ قَالَ: فَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ قَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَنْ يُضْرَبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَا وَقَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُنَّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6557) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (2727)
الحكم: صحيح