النُّفَيْلِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، سَالِمًا ، أَبِي ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ الدّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَصَالِحٌ هذا أبو واقد، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْت أَبِي يُحَدِّثُ عَن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ، قَالَ: فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ، فَقَالَ: بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صالح بن محمد بن زائدہ کہتے ہیں کہ میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو، اور اسے مارو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الحدود 28 (1461)، (تحفة الأشراف: 6763)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/22)، سنن الدارمی/السیر 49 (2537) (ضعیف)» (اس سند کے راوی صالح ضعیف ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1461)
صالح بن محمد بن زائدة : ضعيف (تق : 2885) و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 274) و قال أيضًا : ضعفه أكثر الناس (مجمع الزوائد 7/ 210)
والحديث ضعفه البيهقي (103/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
الحكم: ضعيف