بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دشمن کے ملک میں (غنیمت میں) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: دشمن کے ملک میں (غنیمت میں) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2701 سنن ابو داؤد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں (دوران جنگ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7811)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 20 (3154) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4021)
رواه البخاري (3154)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2702 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَالْقَعْنَبِيُّ ، سُلَيْمَانُ ، حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: لَا أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا قَالَ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ إِلَيَّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الخمس 20 (3153)، والمغازي 38 (4214)، والصید 22 (5508)، صحیح مسلم/الجھاد 25 (1772)، سنن النسائی/الضحایا 37 (4440)، (تحفة الأشراف: 9656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/55، 56)، سنن الدارمی/السیر 57 (2542) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3153) صحيح مسلم (1772)
الحكم: صحيح