بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2688 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ سورة الفتح آية 24 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية (سورۃ الفتح: ۲۴) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 46 (1808)، سنن الترمذی/تفسیرالفتح 3 (3264)، (تحفة الأشراف: 309)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 290) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1808)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2689 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَارَى بَدْرٍ:" لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/فرض الخمس 16 (3139)، والمغازي 12 (4024)، (تحفة الأشراف: 3194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/80) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اہل طائف سے پہنچنے والی ایذاء اور تکلیف سے بچنے کے لئے طائف سے لوٹتے وقت مطعم بن عدی کے یہاں پہنچے، تو انہوں نے مشرکین کو دفع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان سے بچایا، اسی احسان کا بدلہ چکانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ مطعم کی سفارش پر میں ان سب کو چھوڑ دیتا، یعنی فدیہ وغیرہ نہیں لیتا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3139)
الحكم: صحيح