بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنے والے ذمی کافر کا حکم کیا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنے والے ذمی کافر کا حکم کیا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2652 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَقُولُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے ۱؎، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11022)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/336) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ایک انصاری کے حلیف ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرات بن حیان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ ذمی جاسوس کو قتل کرنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96
الحكم: صحيح