بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو اور تمنا مکروہ ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو اور تمنا مکروہ ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2631 سنن ابو داؤد
أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ، وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِي السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب (سکریٹری) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے، پھر فرمایا: اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 98 (2933)، والمغازي 29 (4115)، والدعوات 57 (6392)، والتمني 8 (7237)، والتوحید 34 (7489)، صحیح مسلم/الجھاد 7 (1742)، (تحفة الأشراف: 5161)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد 8 (1678)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 15 (2796)، مسند احمد 4/354) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3024) صحيح مسلم (1742)
الحكم: صحيح